نئی دہلی25نومبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا ) فلم ’’پدماوتی‘‘ کو لے کر جاری تنازعہ کے درمیان نائب صدر وینکیا نائیڈو نے کہا ہے کہ تشدد آمیز دھمکیاں دینا اور کسی کو جسمانی طورپر نقصان پہنچانے کے لئے انعام کا اعلان کرنا کسی بھی جمہوری ملک کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ تاہم انہوں نے صاف طورپراس تنازعہ کا ذکر نہیں کیا، لیکن عام طور سے فلموں اور آرٹ کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے ملک میں قانونی بالادستی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خبر دار کیا ۔ یہاں ایک ادبی تقریب میں نائیڈو نے کہا کہ ابھی کچھ فلموں کو لے کر نیا مسئلہ پیداہوگیاہے،جہاں کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ فلم کے ذریعہ مذاہب سماجی طبقوں کے جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے اور اس کی وجہ سے مظاہرے ہورہے ہیں۔ انہوں نے شر پسند ٹولہ کوتنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ لوگ بے قابو ہوجاتے ہیں اور جذبات کے رو میں بہہ کرانعام کا اعلان کرتے ہیں جو کہ جمہوریت کے سراسر منافی ہے ۔نائب صدر نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ جو لوگ سو کروڑکااعلان کر رہے ہیں ان کے پاس اتنی خطیر رقم دستیاب بھی ہے یا نہیں ؟ سو کروڑ کا ہونا دیوانوں کا کھیل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت میں قابل قبول نہیں ہے ۔ آپ جمہوری طریقے سے احتجاج کرنے کے مجاز ہیں ، اس کے لئے آپ عدالت سے رجوع کریں ۔ آپ کسی کو جسمانی طور یا دماغی طور پر ہراساں نہیں کرسکتے نیز تشدد آمیز دھمکیاں بھی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے اشارۃً یا پیغام دے دیا ہے کہ جو لوگ فلم کے ایکٹرس کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں ، خلاف ورزی نہ کریں ۔اس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی مخصوص فلم کے متعلق گفتگو نہیں کرر ہے ہیں ؛۔ بلکہ تمام فلموں کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔نائیڈو نے پہلے پابندی عائد کردہ فلم جیسے ’’گرم ہوا‘‘، ’’'قصہ کرسی کا ‘‘ اور’’آندھی‘‘ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت اہمیت کا حامل ہے ؛کیونکہ موجودہ وقت میں فلم پدماوتی کو لیکر بی جے پی کے لیڈر نے ڈائریکٹر اور اداکاروں کی سرکی قیمت بھی لگادی ہے اورالیکٹرانک میڈیا میں لایعنی مباحثوں کا دور بھی چل پڑا ہے ۔ الزام ہے کہ فلمساز سنجے لیلا کی فلم ’’ پدماوتی‘‘ میں تاریخی حقائق کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی ہے اور تاریخی حوالہ جات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔